Achche Aur Bure Logoun Ka Anjam Yeksan Hona Chahye ?

04 -588-45-27






04 -588-45-27

اخلاق میں خیر و شر اور اعمال میں نیکی و بدی کے فرق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اچھے اور برے لوگوں کا انجام یکساں نہ ہو ،بلکہ اچھوں کو ان کی اچھائی کا بدلہ ملے اور برے اپنی برائی کا پورا بدلہ پائیں ۔یہ بات اگر نہ ہو، اور نیکی و بدی کا نتیجہ ایک ہی جیسا ہو تو سرے سے اخلاق میں خوبی و زشتی کی تمیز ہی بے معنی ہوجاتی ہےاور خدا پر بے انصافی کا الزام عائد ہوتا ہے ۔جو لوگ دنیا میں بدی کی راہ چلتے ہیں وہ تو ضرور یہ چاہتے ہیں کہ کوئی جزا و سزا نہ ہو ،کیونکہ یہ تصور ہی ان کے عیش کو منغص کر دینے والا ہے ۔ لیکن خداوندعالم کی حکمت اور اس کے عدل سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ نیک و بد سے ایک جیسا معاملہ کرے۔ اور کچھ نہ دیکھے کہ مومن و صالح نے دنیا میں کس طرح زندگی بسر کی ہے۔ اور کافر و فاسق یہاں کیا گل کھلاتا رہا ہے ۔ایک شخص عمر بھر اپنے اوپر اخلاق کی پابندیاں لگائے رہا۔ ناجائز فائدہ اور لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کیے رہا ۔ اور حق و صداقت کی خاطر ہر طرح کے نقصانات برداشت کرتا رہا۔دوسرے شخص نے اپنی خواہشات ہر ممکن طریقے سے پوری کی۔ نہ خدا کا حق پہچانا۔ اور نہ بندوں کے حقوق پر دست درازی کرنے سے باز آیا ۔ جس طرح سے بھی اپنے لئے فائدے اور لزتیں سمیٹ سکتا تھا سمیٹتا چلا گیا ،کیا خدا سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ان دونوں قسم کے آدمیوں کی زندگی کے اس فرق کو وہ نظر انداز کر دے گا ؟مرتے دم تک جن کا جینا یکساں نہیں رہا ہے ،موت کے بعد اگر ان کا انجام یکساں ہو تو خدا کی خدائی میں اس سے بڑھ کر اور کیا بے انصافی ہو سکتی ہے ؟

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.