03-263-23-05 زکوۃ کے طریقے پر عمل ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ "زکوة دینے" اور "زکوة کے
طریقے پر عامل ہونے" میں معنی کے اعتبار سے بڑا فرق ہے جسے نظر انداز کرکے
دونوں کو ہم معنی سمجھ لینا صحیح نہیں ہے۔ آخر کوئی بات تو ہے جس کی وجہ سے یہاں
مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے یؤتون الزکاۃ کا معروف انداز چھوڑ کر لزکوة فاعلون
کا غیر معمولی طرز بیان اختیار کیا گیا ہے۔ عربی زبان میں زکوۃ کا مفہوم دو معنوں
سے مرکب ہے۔ ایک "پاکیزگی" دوسرے" نشونما"۔ کسی چیز کی ترقی میں جو
چیزیں مانع ہوں ان کو دور کرنا، اور اس کے اصل جوہر کو پروان چڑھانا، یہ دو تصورات
مل کر زکواة کا پورا تصور بناتے ہیں۔ پھر یہ لفظ جب اسلامی اصطلاح بنتا ہے تو اس
کا اطلاق دو معنوں پر ہوتا ہے۔ ایک وہ مال جو
مقصد تزکیہ کے لیے نکالا جائے۔ دوسرے بجائے خود تزکیہ
کا فعل۔ اگر یؤتون الزکاۃ کہیں تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ وہ تزکیہ کی غرض
سے اپنے مال کا ایک حصہ دیتے یا ادا کرتے ہیں۔ اس طرح بات صرف مال دینے تک محدود
ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر لزکواة فاعلونا کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ تزکیہ
کا فعل کرتے ہیں، اور اس صورت میں صرف مال زکوۃ ادا کرنے تک محدود نہ رہے گی بلکہ تزکیہ نفس،تزکیہ اخلاق، تزکیہ زندگی،تزکیہ مال، غرض
ہر پہلو کے تزکیہ تک وسیع ہوجائے گی۔ اور مزید برآں اس کا مطلب صرف اپنی ہی کے تزکیہ
تک محدود نہ رہے گا۔ بلکہ اپنے گرد و پیش کی زندگی کے تزکیہ تک بھی پھیل
جائیگا۔لہذا دوسرے الفاظ میں اس آیت کا ترجمہ یوں ہوگا کہ "وہ تزکیہ کا کام
کرنے والے لوگ ہیں" یعنی اپنے آپ کو بھی پاک کرتے ہیں اور دوسروں کو پاک کرنے
کی خدمت بھی انجام دیتے ہیں، اپنے اندر بھی جوہر انسانیت کو نشوونما دیتے ہیں، اور
باہر کی زندگی میں بھی اس کی ترقی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں
دوسرے مقامات پر بیان فرمایا گیا ہے مثلا سورہ اعلئ میں فرمایا قد افلح من تزکی
وذکراسم ربہ فصلی 'فلاح پائی اس شخص نے جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب
کا نام یاد کرکے نماز پڑھی'۔اور سورہ شمس میں فرمایا قد افلح من زکہا وقد خاب من
دساہا بامراد ہوا جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔
مگر یہ آیت ان دونوں کے بنسبت وسیع تر مفہوم کے حامل ہے۔ کیونکہ وہ صرف اپنے نفس کا
تزکیہ پر زور دیتی ہیں۔ اور یہ بجائے خود فیل تزکیہ کی اہمیت بیان کر تی ہے۔ جو اپنی ذات اور معاشرے کی زندگی ، دونوں کے لئے تزکیے پر حاوی
ہے۔

|