allah ki raah me jahad karo jaisa k....




03-253-22-128

اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاد سے مراد محض قتال( جنگ) نہیں ہے،بلکہ یہ لفظ جدوجہد اور کشمکش اور انتہائی سعی و کوشش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔پھر جہاد اور مجاہد میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ مزاحمت کرنے والی کچھ طاقتیں ہیں جن کے مقابلے میں یہ جدوجہد مطلوب ہے ۔ اور اس کے ساتھ فی اللہ کی قید یہ متعین کر دیتی ہے کہ مزاحمت کرنے والی طاقتیں وہ ہیں جو اللہ کی بندگی اور اس کی رضاجوئی میں، اور اس کی راہ پر چلنے میں مانع ہیں،اور جدوجہد کا مقصود یہ ہے کہ ان کی مزاحمت کو شکست دے کر آدمی خود بھی اللہ کی ٹھیک ٹھیک بندگی کرے اور دنیا میں بھی اس کا کلمہ بلند اور کفر و الحاد کے کلمے پست کر دینے کیلئے جان لڑا دے۔اس مجاہدے کا اولین ہدف آدمی کا اپنا نفس امارہ ہے جو ہر وقت خدا سے بغاوت کرنے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے اور آدمی کو ایمان و طاعت کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔جب تک اس کو مسخر نہ کر لیا جائے ،باہر کسی مجاہدے کا امکان نہیں ہے ۔اس لیے ایک جنگ سے واپس آنے والے غازیوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سے۔ "تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آ گئے ہو "۔عرض کیا گیا وہ بڑا جہاد کیا ہے ؟"آدمی کی خود اپنی خواہش نفس کے خلاف جدوجہد "۔ اس کے بعد جہاد کا وسیع تر میدان پوری دنیا ہے جس میں کام کرنے والی تمام بغاوت کیش اور بغاوت آموز اور بغاوت انگیز طاقتوں کے خلاف دل اور دماغ اور جسم اور مال کی ساری قوتوں کے ساتھ سعی و جہد کرنا وہ حقہ جہاد ہے جسے ادا کرنے کا یہاں مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔



 

Post a Comment

2 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.
Amjad Pasha said…
This comment has been removed by the author.