04 -581-45-07
ہواوں کی گردش
ہواؤں کی گردش سے مراد مختلف اوقات میں زمین کے مختلف
حصوں پر، اور مختلف بلندیوں پر، مختلف ہوائیں چلنا ہے۔ جس سے موسموں کی تبدیلی
واقع ہوتی ہے۔ دیکھنے کی چیز صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ زمین کے اوپر ایک وسیع کرہ
ہوائی پایا جاتا ہے۔ جس کے اندر وہ تمام عناصر موجود ہیں۔ جو زندہ مخلوقات کو سانس
لینے کے لئے درکار ہیں۔ اور ہوا کے اسی لحاف نے زمین کی آبادی کو بہت سے آفات
سماوی سے بچا رکھا ہے۔ اس کے ساتھ دیکھنے کی چیز یہ بھی ہے کہ یہ ہوا محض بالائی
فضا میں بھر کر نہیں رہ گئی ہے ۔بلکہ وقتاً فوقتاً مختلف طریقوں سے چلتی رہتی ہے
۔کبھی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے، کبھی گرم ،کبھی بند ہو جاتی ہے، اور کبھی چلنے لگتی ہے،
کبھی ہلکی چلتی ہے، تو کبھی تیز ، اور کبھی آندھی اور طوفان کی شکل اختیار کر لیتی
ہے، کبھی خوک ہوا چلتی ہے، اور کبھی مرطوب، کبھی بارش لانے والی ہوا چلتی ہے، اور
کبھی اس کو اڑا لے جانے والی چل پڑتی ہے۔ یہ طرح طرح کی ہوائیں کچھ یوں ہی اندھا
دھن نہیں چلتی۔ بلکہ ان کا ایک قانون ایک نظام ہے جو شہادت دیتا ہے کہ یہ انتظام
کمال درجہ حکمت پر مبنی ہے ۔ اور اس سے بڑے اہم مقاصد پورے ہو رہے ہیں۔ اور اس کا
بڑا گہرا تعلق اس سردی اور گرمی سے ہے جو زمین اور سورج کے درمیان بدلتی ہوئی
مناسبتوں کے مطابق گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہے ۔اور مزید برآں اس کا نہایت گہرا تعلق
موسمی تغیرات اور بارشوں کی تقسیم سے بھی ہے۔ یہ ساری چیزیں پکار پکار کر کہہ رہی
ہیں کہ کسی آندھی فطرت نے اتفاقا یہ انتظامات نہیں کر دیے ہیں ۔نہ سورج اور زمین
اور ہوا اور پانی اور نباتات اور حیوانات کے الگ الگ مدبر ہیں ۔بلکہ لازم ایک ہی
خدا ان سب کا خالق ہے۔ اور اسی کی حکمت نے ایک مقصد عظیم کے لئے یہ انتظام قائم
کیا ہے۔ اور اسی کی قدرت سے یہ پوری باقاعدگی کے ساتھ ایک مقرر قانون پر چل رہا ہے
۔
