03-496-26-44
اس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں اور
خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی فرعون نے تو یہ کام اپنے نزدیک بڑی عقلمندی کا کیا
تھا کہ دور دور سے فوجیں طلب کر کے بنی اسرائیل کو دنیا سے مٹا دینے کا سامان
کیا،لیکن خدائی تدبیر نے اس کی چال اس پر یوں الٹ دی کے دولت فرعونیہ کے بڑے بڑے
ستون اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر اس جگہ جا پہنچے انہیں اور اس کے سارے لشکر کو ایک ساتھ
غرق ہونا تھا۔ اگر وہ بنی اسرائیل کا پیچھا نہ کرتے تو نتیجہ صرف اتنا ہی ہوتا کہ
ایک قوم ملک چھوڑ کر نکل جاتی ۔ اس سے بڑھ کر ان کا کوئی نقصان نہ ہوتا اور وہ حسب
ثابق اپنے عیش کدوں میں بیٹھے زندگی کے مزے لوٹتے رہتے ۔لیکن انہوں نے کمال درجے
کی ہوشیاری دکھانے کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کو خیریت نہ گزرنے جانے
دیں۔ بلکہ ان کے مہاجر قافلوں پر ایک بارگی حملہ کرکے ہمیشہ کے لئے ان کا قلع قمع
کر دیں۔اس غرض کے لئے ان کے شہزادے اور بڑے بڑے سردار اور اعیان سلطنت بادشاہ زی
جاہ سمیت اپنے محلوں سے نکل آئے،اور اسی دانائی نے یہ دوہرا نتیجہ دکھایا کہ بنی
اسرائیل مصر سے نکل بھی گئے اور مصر کی ظالم فرعون سلطنت کا مکھن نظر دریا بھی
ہوگیا ۔
03-498-26-49
اس واقعے میں ایک نشانی ہے مگر ان لوگوں میں
سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی
قریش کے لئے اس میں یہ سبق ہے کہ ہٹ دھرم لوگ کھلے کھلےمعجزات دیکھ کر بھی کس طرح
ایمان لانے سے انکار ہی کیے جاتے ہیں اور پھر اسی ہٹ دھرمی کا انجام کیسا دردناک
ہوتا ہے ۔فرعون اور اس کی قوم کے تمام سرداروں اور ہزارہا لشکریوں کی آنکھوں پر
ایسی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ سالہا سال تک جو نشانیاں ان کو دکھائی جاتی رہیں ان کو
تو وہ نظر انداز کرتے ہی رہے تھے ، آخر میں عین غرق ہونے کے وقت بھی ان کو یہ نہ
سوجھا کے سمندر اس قافلہ کے لیے پھٹ گیا ہے ،پانی پہاڑوں کی طرح دونوں طرف کھڑا ہے
اور بیچ میں سوکھی سڑک سے بنی ہوئی ہے ۔یہ ساری علامتیں دیکھ کر بھی ان کو عقل نہ
آئی کہ موسی علیہ السلام کے ساتھ خدائی طاقت کام کر رہی ہے اور وہ اس طاقت سے لڑنے
جا رہے ہیں ۔خوش ان کو آئی ابھی تو اس وقت جب پانی نے دونوں طرف سے ان کو دبوچ لیا
تھا اور وہ خدا کے غضب میں گر چکے تھے ۔
دوسری طرف اہل ایمان کے لیے بھی اس میں یہ نشانی ہے کہ
ظلم اور اس کی طاقتیں خواہ بظاہر کیسی ہیں چھائی ہوئی نظر آتی ہوں، آخر کار اللہ
تعالی کی مدد سے حق کا یوں بول بالا ہوتا ہے اور باطل اس طرح سرنگوں ہو کر رہتا
ہے۔
