qayem hojao apne baap ibrahim ki mallat par...


03-255-22-131
قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر ۔

اگرچہ اسلام کو ملت نوح، ملت موسی، ملت عیسئ،  بھی اسی طرح کہا جاسکتا ہے جس طرح ملت ابراہیم ۔لیکن قرآن مجید میں اس کو بار بار ملت ابراہیم کہکر اس کی اتباع کی دعوت تینوں وجوہ سے دی گئی ہے ۔یہ کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب تھے اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جس طرح مانوس تھے کسی اور سے نہ تھے ۔ان کی تاریخ روایات اور متقدات میں جس شخصیت کا رسوخ و اثر رچا ہوا تھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کی شخصیت تھی ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی وہ شخص تھے جن کی بزرگی پر یہودی، عیسائی، مسلمان، مشرکین عرب، اور شرق اوسط کے صابئ، سب متفق تھے۔ انبیاء میں کوئی دوسرا ایسا نہ تھا اور نہ ہے جس پر سب کا اتفاق ہو ۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان سب ملتوں کی پیدائش سے پہلے گزرے ہیں۔یہودیت عیسائیت اور صابئیت کے متعلق تو معلوم ہی ہے کہ سب بعد کی پیداوار ہیں۔رہے مشرکین عرب تو وہ بھی مانتے تھے کہ ان کی بت پرستی کا رواج عمر بن لحی سے شروع جو بنی خزاعہ کا سردار تھا اور مآب(مواب )کے علاقے سے ہبل نامی بت لے آیا تھا۔اس کا زمانہ زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سو سال قبل مسیح کا ہے۔لہذا یہ ملت بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صدیوں بعد پیدا ہوئی ۔اس صورتحال میں قرآن جو کہتا ہے کہ ان ملتوں کے بجائے ملت ابراہیم کو اختیار کرو تو وہ دراصل اس حقیقت پر متنبہ کرتا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام برحق اور برسر ہدایت تھے۔ اور ان ملتوں میں سے کسی کے پیرو نہ تھے۔ تو لامحالہ پھر وہی ملت اصل حق ہے۔  نہ کے یہ بعد کی ملتیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اسی ملت کی طرف ہے ۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.