koi in gunahoun ke baad tauba karchuka hoo aur iman lakar...





03-467-25-86
Gunahon ki maafi

الا یہ کہ کوئی( ان گناہوں کے بعد) توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ بشارت ہے ان لوگوں کے لئے جن کی زندگی پہلے طرح طرح کے جرائم سے آلودہ رہی ہو اور اب وہ اپنی اصلاح پر آمادہ ہوں۔ یہی عام معافی (General Amnesty)کا اعلان تھا جس نے اس بگڑے ہوئے معاشرے کے لاکھوں افراد کو سہارا دے کر مستقل بگاڑ سے بچا لیا ۔اسی نے ان کو امید کی روشنی دکھائی اور اصلاح حال پر آمادہ کیا ۔ورنہ اگر ان سے یہ کہا جاتا کہ جو گناہ تم کر چکے ہو ان کی سزا سے اب تم کسی طرح نہیں بچ سکتے ،تو یہ انہیں مایوس کر کے ہمیشہ کے لئے بدی کے بھنور میں پھنسا دیتا اور کبھی ان کی اصلاح نہ ہو سکتی ۔مجرم انسان کو صرف معافی کی امید ہی جرم کے چکر سے نکال سکتی ہے ۔ مایوس ہو کر وہ ابلیس بن جاتا ہے ۔
توبہ کی اس نعمت نے عرب کے بگڑے ہوئے لوگوں کو کس طرح سنبھالا ،اس کا اندازہ ان بہت سے واقعات سے ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آئے ۔مثال کے طور پر ایک واقعہ ملاحظہ ہو جسے ابن جریر اور طبرانی نے روایت کیا ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں مسجد نبوی سے عشاء کی نماز پڑھ کر پلٹا تو دیکھا کہ ایک عورت میرے دروازے پر کھڑی ہے میں اس کو سلام کرکے اپنے حجرے میں چلا گیا اور دروازہ بند کر کے نوافل پڑھنے لگا ۔کچھ دیر کے بعد اس نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور پوچھا کیا چاہتی ہے ؟وہ کہنے لگی میں آپ سے ایک سوال کرنے آئی ہوں ۔مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوا ۔ناجائز حمل ہوا ۔بچہ پیدا ہوا تو میں نے اسے مار ڈالا ۔اب میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کے میرا گناہ معاف ہونے کی بھی کوئی صورت ہے ؟میں نے کہا ہر گز نہیں ۔وہ بڑی حسرت کے ساتھ آہیں بھرتی ہوئی واپس چلی گئی ،اور کہنے لگی "افسوس ،یہ حسن آگ کے لیے پیدا ہوا تھا ۔"صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ کر جب میں فارغ ہوا تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کا قصہ سنایا ۔آپ نے فرمایا ،بڑا غلط جواب دیا ابوہریرہ رضی اللہ تعالئ عنہ تم نے ،کیایہ آیت قرآن میں تم نے نہی پڑھی والزین لا یدعون مع اللہ الھا آخر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الا من تاب وامن و عمل عملا صالحا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب سن کر میں نکلا اور اس عورت کو تلاش کرنا شروع کیا ۔رات کو وہ عشا کے وقت وہ ملی ۔میں نے اسے بشارت دی اور بتایا کہ سرکار رسالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سوال کا یہ جواب دیا ہے ۔وہ سنتے ہیں سجدے میں گر گئی اور کہنے لگی شکر ہے اس خدائے پاک کا جس نے میرے لیے معافی کا دروازہ کھولا ۔پھر اس نے گناہوں سے توبہ کی اور اپنی لونڈی کو اس کے بیٹے سمیت آزاد کردیا ۔اس سے ملتا جلتا واقعہ احادیث میں ایک بڈھے کا آیا ہے جس نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ ،ساری زندگی گناہوں میں گزاری ہے ۔کوئی گناہ ایسا نہیں جس کا ارتکاب نہ کر چکا ہوں ۔اپنے سارے گناہ زمین کے باشندوں پر تقسیم کر دوں تو سب کو لے ڈوبیں ۔کیا اب بھی میری معافی کی کوئی صورت ہے ؟فرمایا ،کیا تو نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟اس نے عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔فرمایا جا ،اللہ معاف کرنے والا اور تیری برائیوں کو بھلائی میں بدل دینے والا ہے ۔اس نے عرض کیا میرے سارے جرم اور قصور ؟فرمایا ہاں ،تیرے سارے جرم اور قصور (ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم)۔

 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.