Ham chahien to Asman se aisi nashani nazil karsakte

03-477-26-03
ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں ۔ ۔  ۔  ۔
یعنی کوئی ایسی نشانی نازل کر دینا جو تمام کفار کو ایمان و اطاعت کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دے، اللہ تعالہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے ۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ کام اس کی قدرت سے باہر ہے ۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا جبری ایمان اس کو مطلوب نہیں ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ لوگ عقل و خرد سے کام لے کر ان آیات کی مدد سے حق کو پہچانیں جو کتاب الہی میں پیش کی گئی ہیں ،جو تمام آفاق میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ،جو خود ان کی اپنی ہستی میں پائی جاتی ہیں ۔پھر جب ان کا دل گواہی دے کہ واقعی حق وہی ہے جو انبیا علیہ السلام نے پیش کیا ہے ،اور اس کے خلاف جو عقیدے اور طریقے رائج ہیں وہ باطل ہیں ،تو جان بوجھ کر باطل کو چھوڑیں اور حق کو اختیار کریں ۔ یہی اختیاری ایمان اور ترک باطل اور اتباع حق وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ انسان سے چاہتا ہے ۔اسی لیے اس نے انسان کو ارادے اور اختیار کی آزادی دی ہے ۔اسی بنا پر اس نے انسان کو یہ قدرت عطا کی ہے صحیح اور غلط ،جس راہ پر بھی وہ جانا چاہیے جا سکے ۔اسی وجہ سے اس نے انسان کے اندر خیر اور شر کے دونوں رجحانات رکھ دیے ہیں ،فجور اور تقوئ کی دونوں راہیں اس کے آگے کھول دی ہیں ،شیطان کو بہکانے کی آزادی عطا کی ہے ،نبوت اور وحی اور دعوت خیر کا سلسلہ راہ راست دکھانے کے لئے قائم کیا ہے ،اور انسان کو انتخاب راہ کے لئے ساری مناسب حال صلاحیتیں دے کر اس امتحان کے مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کفر و فسق کا راستہ اختیار کرتا ہے یا ایمان و اطاعت کا ۔ اس امتحان کا سارا مقصد ہی فوت ہو جائے اگر اللہ تعالی کوئی ایسی تدبیر اختیار فرمائے جو انسان کو ایمان اور اطاعت پر مجبور کر دینے والی ہو ۔جبری ایمان ہی مطلوب ہوتا تو نشانیاں نازل کر کے مجبور کرنے کی کیا حاجت تھی ،اللہ تعالی انسان کو اسی فطرت اور ساخت پر پیدا فرما سکتا تھا جس میں کفر، نافرمانی اور بدی کا کوئی امکان ہی نہ ہوتا ،بلکہ فرشتوں کی طرح انسان بھی پیدائشی فرمابردار ہوتا ۔یہی حقیقت ہے جس کی طرف متعدد مواقع پر قرآن مجید میں اشارہ کیاگیاہے ۔



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.