shayateen aur kalaam e ilahi

03-540-26-131
اس (کتاب مبین) کو شیاطین کی لے کر نہیں اترے ہیں، نہ یہ ایک کام ان کو سجتا ہے،اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ 

یعنی یہ کلام اور یہ مضامین شیاطین کے منہ پر پھبتے بھی تو نہیں ہیں ۔کوئی عقل رکھتا ہو تو خود سمجھ سکتا ہے کہ کہیں یہ باتیں، جو قرآن میں بیان ہو رہی ہیں، شیاطین کی طرف سے بھی ہو سکتی ہیں؟ کیا تمہاری بستیوں میں کاہن موجود نہیں ہیں اور شیاطین سے ربط ضبط رکھ کر جو باتیں وہ کرتے ہیں وہ تم نے کبھی نہیں سنی؟ کیا کبھی تم نے سنا ہے کہ کسی شیطان نے کسی کا حل کے ذریعے لوگوں کو خدا پرستی اور خدا ترسی کی تعلیم دی ہو؟ شرک و بت پرستی سے روکا ہو؟آخرت کی باز پرس کا خوف دلایا ہو؟ ظلم اور بدکاری اور بد اخلاقیوں سے منع کیا ہو؟ نیکوکاری اور راستبازی اور خلق خدا کے ساتھ احسان کی تلقین کی ہو؟ شیاطین کا یہ مزاج کہاں ہے؟ ان کا مزاج تو یہ ہے کہ لوگوں میں فساد ڈلوائیں اور انہیں برائیوں کی طرف رغبت دلائیں۔ ان سے تعلق رکھنے والے کاہنوں کے پاس تو لوگ یہ پوچھے جاتے ہیں کہ عاشق و معشوق ملے گا یا نہیں؟ جو ہے میں کون سا داؤں مفید رہے گا؟ دشمن کو نیچا دکھانے کے لیے کیا چال چلی جائے ؟ اور فلاں شخص کا اونٹ کس نے چرایا ہے؟ یہ مسائل اور معاملات چھوڑ کر کاہنوں اور ان کے سرپرست شیاطین کو خلق خدا کی اصلاح، بھلائیوں کی تعلیم اور برائیوں کے استحصال کی کب سے فکر لاحق ہوگئی ؟

 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.