03-225-22-64
ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا
ہے تاکہ( اس امت کے) لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ۔ ایک یہ کہ قربانی
تمام شرائع الہیہ کے نظام عبادت کا ایک لازمی جز رہی ہے ۔توحید کے عبادت کے بنیادی
تقاضوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان نے جن جن صورتوں سے غیر اللہ کی بندگی کی ہے
ان سب کو غیر اللہ کے لیے ممنوع کرکے صرف اللہ کے لیے مختص کر دیا جائے ۔مثلا
انسان نے غیر اللہ کے آگے رکوع سجود کیا ہے ۔شرائع الہیہ نے اسے اللہ کے لیے خاص
کر دیا ۔انسان نے غیر اللہ کے آگے مالی نذرانے پیش کیے ہیں ۔شرائع الہیہ انہیں
ممنوع کرکے زکات و صدقات اللہ کے لیے واجب کردیا ۔انسان نے معبودان باطل کی تیرتھ
یاترا کی ہے ۔شرائع الہیہ نے کسی نہ کسی مقام کو مقدس یا بیت اللہ قرار دے کر اس
کی زیارت اور طواف کا حکم دے دیا ۔انسان نے غیر اللہ کے نام کے روزے رکھے ہیں
۔شرائع الہیہ انہیں بھی اللہ کے لیے مختص کر دیا ۔ٹھیک اسی طرح انسان اپنے خود
ساختہ معبودوں کے لئے جانوروں کی قربانیاں بھی کرتا رہا ہے اور شرائع الہیہ نے ان
کو بھی غیر کے لیے قطعا حرام اور اللہ کے لیے واجب کردیا ۔دوسری بات اس آیت سے یہ
معلوم ہوئی کہ اصل چیز اللہ کے نام پر قربانی ہے نہ کہ اس قاعدہ کی تفصیلات کے
قربانی کب کی جائے اور کہاں کی جائے کس طرح کی جاۓ
۔ان تفصیلات میں مختلف زمانوں اور مختلف قوموں اور ملکوں کے انبیاء کی شریعتوں میں
حالات کے لحاظ سے اختلافات رہے ہیں ،مگر سب کی روح اور سب کا مقصد ایک ہی رہا ہے ۔
03-227-22-68
اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ
میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے ،پس انہیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا
نام لو ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یعنی تم ان سے بکثرت فائدے اٹھاتے ہو۔ یہ اشارہ ہے اس
امر کی طرف کے تمہیں ان کی قربانی کیوں کرنی چاہیے۔ آدمی خدا کی بخشی ہوئی جن
چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے ان میں سے ہر ایک کی قربانی اس کو اللہ کے نام پر کرنی
چاہیے، نہ صرف شکر نعمت کے لئے، بلکہ اللہ کی برتری اور مالکیت تسلیم کرنے کے لئے
بھی، تاکہ آدمی دل میں بھی اور عمل سے بھی اس امر کا اعتراف کرے کہ یہ سب کچھ خدا
کا ہے جو اس نے ہمیں عطاء کیا ہے۔ ایمان اور اسلام نفس کی قربانی ہے۔ نماز اور
روزہ جسم اور اس کی طاقتوں کی قربانی ہے۔ زکوۃ اموال کی قربانی ہے جو مختلف شکلوں
میں ہم کو اللہ نے دیے ہیں۔ جہاد وقت اور ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کی قربانی ہے۔ قتال
فی سبیل اللہ جان کی قربانی ہے۔ یہ سب ایک ایک طرح کی نعمت اور ایک ایک عطیے کہ
شکریے ہیں۔ اسی طرح جانوروں کی قربانی بھی ہم پر عائد کی گئی ہے تاکہ ہم اللہ
تعالی کی اس عظیم الشان نعمت پر اس کا شکر ادا کریں اور اس کی بڑائی مانیں کے اس
نے اپنے پیدا کیے ہوئے بکثرت جانوروں کو ہمارے لئے مسخر فرمایا جن پر ہم سوار ہوتے
ہیں جن سے کھیتی باڑی اور باربرداری کی خدمت لیتے ہیں، جن کے گوشت کھاتے ہیں، جن
کے دودھ پیتے ہیں، جن کی کھالوں اور بالوں، اور خون اور ہڈی، پر بھی ایک ایک چیز
سے بے حساب فائدہ اٹھاتے ہیں ۔