A hain wo log jo apne Sabr ka Phal manzil buland ki shakal me payenge


03-471-25-94

یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل منزل بلند کی شکل میں پائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صبر کا لفظ یہاں اپنے وسیع ترین مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔دشمنان حق کے مظالم کو مردانگی کے ساتھ برداشت کرنا ۔دین حق کو قائم اور سر بلند کرنے کے لیئے جدوجہد میں ہر قسم کے مصائب اور تکلیفوں کو سہہ جانا ۔ ہر خوف اور لالچ کے مقابلے میں راہ راست پر ثابت قدم رہنا ۔ شیطان کی تمام تر غیبات اور نفس کی ساری خواہشات کے علی الرغم فرض کو بجا لانا ۔حرام سے پرہیز کرنا اور حدود اللہ پر قائم رہنا ۔گناہ کی ساری لذتوں اور منفعتوں کو ٹھکرا دینا اور نیکی و راثتی کے ہر نقصان اور اس کی بدولت حاصل ہونے والی ہر محرومی کو انگیز کر جانا ۔غرض اس ایک لفظ کے اندر دین اور دینی رویہ اور دینی اخلاق کی ایک دنیا کی دنیا سمو کر رکھ دی گئی ہے ۔
 

Post a Comment

1 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.
M A said…
جب امیر درس دینے کو کہے تو پوری تیاری سے درس تیار کرنا اور عین موقع پر اگر امیر درس دینے سے روک دے تو امیر کی اطاعت میں درس دینے سے رک جانا،اور اس بات کا واویلا نہ مچانا،اگر واقعی امیر غلتی پر ہے تو اسے احسن طریقے سے اسکی غلتی کا . احساس دلانا،جماعت کے افراد کی کمزوریوں کو سوشیل میڈیا میں نہ بیان کرنا یہ سب بھی صبر کے مفہوم میں آتا ہے_ ڈ