kya is raviye ki wajah a hai k is kalam ko unhoun ne nahi samjha...


03-289-23-(64-65)


تو کیا ان لوگوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا ؟یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی ؟
یعنی کیا ان کے اس رویہ کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام کو انہوں نے سمجھا ہی نہیں اس لیے وہ اسے نہیں مانتے ؟ظاہر ہے کہ یہ وجہ نہیں ہے ۔قرآن کوئی چیستان نہیں ہے ،کسی ناقابل فہم زبان میں نہیں ہے ۔کسی ایسے مضمون اور موضوع کلام پر مشتمل نہیں ہے جو آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہو ۔وہ اس کی ایک ایک بات اچھی طرح سمجھتے ہیں اور مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ پیش کررہا ہے اسے نہیں ماننا چاہتے ،نا اس لیے کہ انہوں نے سمجھنے کی کوشش کی اور سمجھ میں نہ آیا ۔

یعنی کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک نرالی بات پیش کر رہا ہے جس سے انسانی کان کبھی آشنا ہی نہ ہوئے تھے ؟

ظاہر ہے کہ یہ وجہ بھی نہیں ہے ۔خدا کی طرف سے انبیاء کا آنا، کتابیں لے کر آنا، توحید کی دعوت دینا، آخرت کی باز پرس سے ڈرانا، اور اخلاق کی معروف بھلائیاں پیش کرنا، ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تاریخ میں آج پہلی مرتبہ رونما ہوئی ہو،اور اس سے پہلے کبھی اس کا ذکر نہ سنا گیا ہو۔ان کے گردوپیش عراق شام اور مصر میں انبیاء پر انبیائے ہیں، جنہوں نے یہی باتیں پیش کی ہیں اور یہ لوگ اس سے نا واقف نہیں ہیں۔ خود ان کی اپنی سرزمین میں ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام آئے ،ہود اور صالح اور شعیب علیہ السلام آئے ،ان کے نام آج تک ان کی زبانوں پر ہیں ،ان کو یہ خود فرستادہ الھی مانتے ہیں ،اور ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ مشرک نہ تھے بلکہ خدائے واحد کی بندگی سکھاتے تھے ۔اس لئے درحقیقت ان کے انکار کی یہ وجہ بھی نہیں ہے کہ ایک بالکل ہی انوکھی بات سن رہے ہیں جو کبھی نہ سنی گئی تھی ۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.