Khuda ka Azaab Sirf...



03-298-23-87

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرو کہ" پروردگار، جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تو لائے، تو اے میرے رب، مجھے ان لوگوں میں شامل نہ کیجیو"۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ اس عذاب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبتلا ہوجانے کا فی الواقع  کوئی خطرہ تھا ، یا یہ کہ اگر آپ یہ دعا نہ مانگتے تو اس میں مبتلا ہوجاتے۔بلکہ اس طرح کا انداز بیان یہ تصور دلانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے کہ خدا کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق چیز ۔وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا مطالبہ کیا جائے ،اور اگر اللہ اپنی رحمت اور اپنے حلم کی وجہ سے اس کے لانے میں دیر کرے تو اطمینان کے ساتھ شرارتوں اور نافرمانیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے ۔درحقیقت وہ ایسی خوفناک چیز ہے کہ گناہگاروں ہی کو نہیں، نیکو کاروں کو بھی اپنی ساری نیکیوں کے باوجود اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔علاوہ بریں اس میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اجتماعی گناہوں کی پاداش میں جب عذاب کی چکی چلتی ہے تو صرف برے لوگ ہی اس میں نہیں پستے، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھلے لوگ بھی بسا اوقات لپیٹ میں آ جاتے ہیں ۔لہذا ایک گمراہ اور بدکار معاشرے میں رہنے والے ہر نیک آدمی کو ہر وقت خدا کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے ۔کچھ خبر نہیں کے کب کس سورۃ میں ظالموں پر قہر الہی کا کوڑا برسنے شروع ہو جائے اور کون اس کی زد میں آجائے ۔

Post a Comment

1 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.
Amjad Pasha said…
💐💐 جناب ہمیں کچھ سیکھنے کو ملرحا ہے۔💐💐